اسموگ دو الفاظ سے مل کر بنی ہے: دھواں (Smoke) اور دھند (Fog)۔ جب گاڑیوں، کارخانوں اور کھیتوں میں فصلوں کو جلانے کا دھواں سرد ہوا میں پھنس جاتا ہے تو اسموگ بنتی ہے۔ پاکستان میں خاص طور پر پنجاب کے شہروں میں اکتوبر سے جنوری کے درمیان یہ مسئلہ شدید ہو جاتا ہے۔

PM2.5 کیا ہے اور یہ کیوں خطرناک ہے؟

PM2.5 وہ باریک ذرات ہیں جن کا قطر 2.5 مائیکرو میٹر سے کم ہوتا ہے۔ یہ اتنے چھوٹے ہیں کہ ناک کے بال بھی انہیں نہیں روک سکتے۔ یہ سیدھے پھیپھڑوں میں جاتے ہیں اور وہاں سے خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق PM2.5 کی محفوظ سالانہ اوسط 5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے۔ لاہور میں یہ سطح اکثر 200 سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے WHO کی ویب سائٹ دیکھیں۔

صحت پر اثرات

فوری اثرات

  • آنکھوں میں جلن اور پانی آنا
  • گلے میں خراش اور کھانسی
  • ناک بند ہونا یا بہنا
  • سر درد اور تھکاوٹ
  • سانس لینے میں تکلیف

طویل مدتی اثرات

  • دمہ اور برونکائٹس کا خطرہ بڑھنا
  • پھیپھڑوں کی صلاحیت کم ہونا
  • دل کی بیماریوں کا خطرہ
  • قبل از وقت بڑھاپا
  • بچوں میں دماغی نشوونما پر اثر
پاکستان میں اسموگ کی ریکارڈ سطح نومبر 2024

نومبر 2024 میں پاکستان میں اسموگ کی ریکارڈ سطح (ماخذ: NASA MODIS)

اسموگ سے بچاؤ کے طریقے

اسموگ کے موسم میں چند احتیاطی تدابیر آپ کی صحت کی حفاظت کر سکتی ہیں:

  • AQI چیک کریں: روزانہ صبح ہوا کا معیار دیکھیں۔ جب AQI 150 سے زیادہ ہو تو غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔
  • N95 ماسک پہنیں: عام کپڑے کے ماسک PM2.5 کو نہیں روکتے۔ N95 یا KN95 ماسک استعمال کریں۔
  • کھڑکیاں بند رکھیں: اسموگ کے وقت گھر کی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں۔
  • ہوا صاف کرنے والے پودے لگائیں: گھر کے اندر ہوا صاف کرنے والے پودے رکھیں۔
  • پانی زیادہ پئیں: پانی جسم سے زہریلے مادے نکالنے میں مدد کرتا ہے۔

کمزور افراد کے لیے خصوصی احتیاط

کچھ لوگ اسموگ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

  • 5 سال سے کم عمر بچے
  • 65 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ
  • دمہ یا دل کے مریض
  • حاملہ خواتین

ان افراد کو اسموگ کے دنوں میں گھر کے اندر رہنا چاہیے اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو N95 ماسک لازمی پہنیں۔

لاہور میں اسموگ کی صورتحال

لاہور دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شامل ہے۔ سردیوں میں یہاں AQI اکثر 300 سے بھی اوپر چلا جاتا ہے جو "خطرناک" زمرے میں آتا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات ہیں: گاڑیوں کا دھواں، اینٹوں کے بھٹے، فصلوں کو جلانا اور صنعتی آلودگی۔

پاکستان کا محکمہ ماحولیات اور IQAir روزانہ ہوا کے معیار کی رپورٹ جاری کرتے ہیں جو آپ آن لائن دیکھ سکتے ہیں۔