بچوں کے پھیپھڑے ابھی نشوونما پا رہے ہوتے ہیں اس لیے وہ فضائی آلودگی سے بالغوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بچے زیادہ تیزی سے سانس لیتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ زیادہ آلودہ ہوا اندر کھینچتے ہیں۔ پاکستان میں جہاں آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہے، والدین کو خاص احتیاط کرنی چاہیے۔
بچوں پر آلودگی کے اثرات
- پھیپھڑوں کی نشوونما متاثر ہونا
- دمہ اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھنا
- دماغی نشوونما پر منفی اثر
- مدافعتی نظام کمزور ہونا
- بار بار نزلہ، زکام اور کھانسی
- آنکھوں اور جلد کی تکالیف
UNICEF کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہزاروں بچے فضائی آلودگی سے متعلق بیماریوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے UNICEF کی ویب سائٹ دیکھیں۔
اسکول جانے والے بچوں کے لیے احتیاط
- AQI چیک کریں: روزانہ صبح اسکول بھیجنے سے پہلے ہوا کا معیار دیکھیں
- بچوں کا ماسک: AQI 150 سے زیادہ ہو تو بچوں کے سائز کا N95 ماسک پہنائیں
- پانی کی بوتل: بچوں کو زیادہ پانی پینے کی عادت ڈالیں
- اسکول سے رابطہ: اسموگ کے دنوں میں اسکول سے پوچھیں کہ باہر کھیلنے کا وقت کم کیا جائے
- گھر واپسی پر: بچوں کو گھر آتے ہی ہاتھ منہ دھلوائیں
گھر کو بچوں کے لیے محفوظ بنائیں
بچوں کا کمرہ خاص طور پر صاف ہوا والا ہونا چاہیے کیونکہ وہ وہاں سوتے اور پڑھتے ہیں:
- بچوں کے کمرے میں ہوا صاف کرنے والا آلہ لگائیں
- کمرے میں ایک یا دو پودے رکھیں
- قالین اور موٹے پردے باقاعدگی سے صاف کریں
- سگریٹ نوشی گھر کے باہر کریں
- بچوں کے کھلونے باقاعدگی سے دھوئیں
چھوٹے بچوں کے لیے خصوصی احتیاط
2 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ماسک پہنانا ممکن نہیں۔ ان کے لیے:
- اسموگ کے دنوں میں گھر سے باہر نہ لے جائیں
- گھر میں ہوا صاف رکھیں
- ماں کا دودھ پلانا جاری رکھیں کیونکہ یہ مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے
- اگر بچے کو سانس لینے میں تکلیف ہو تو فوری ڈاکٹر سے ملیں
علامات جن پر توجہ دیں
اگر بچے میں یہ علامات ہوں تو ڈاکٹر سے ملیں:
- بار بار کھانسی جو ٹھیک نہ ہو
- سانس لینے میں آواز آنا
- سینے میں درد یا تنگی
- آنکھیں لال ہونا اور پانی آنا
- بہت زیادہ تھکاوٹ